مضامین
وقف مساجد میں خطباتِ جمعہ کے مشترکہ موضوعات پر مذہبی خودمختاری کے تحفظ کا مطالبہ

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے: لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ — یعنی دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہے۔
حالیہ واقعہ، جس میں جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن نے وقف بورڈ کے زیرِ انتظام مساجد کے ائمہ کرام کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا اور مبینہ طور پر دو اہم فیصلے کیے، کئی سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان میں پہلا فیصلہ علمائے کرام پر مشتمل یونین ٹیریٹری سطح کی ایک کمیٹی تشکیل دینے سے متعلق تھا، جبکہ دوسرا فیصلہ وقف بورڈ کے زیرِ انتظام تمام مساجد میں ہر جمعہ کو ایک مشترکہ موضوع پر خطبہ دینے سے متعلق تھا۔
اگرچہ ان فیصلوں کی تفصیلات اور ان پر عمل درآمد کی صورتِ حال کی وضاحت ضروری ہے، تاہم اس معاملے کا بنیادی تعلق مذہبی آزادی، دینی اداروں کی خودمختاری اور مذہبی امور کو سیاسی مفادات سے الگ رکھنے سے ہے۔
جب کسی سیاسی جماعت سے وابستہ شخصیت کسی عوامی عہدے پر فائز ہوتے ہوئے ایسے اقدامات شروع کرتی ہے جن کے ذریعے کسی مخصوص مذہبی برادری کے دینی بیانیے اور مذہبی رہنمائی پر اثر انداز ہونے کا امکان پیدا ہو، تو مذہبی امور کی سیاست کاری کے حوالے سے سوالات اٹھنا فطری بات ہے۔ ایمان، دینی رہنمائی اور خطباتِ جمعہ انتہائی حساس معاملات ہیں، جن میں غیر معمولی احتیاط، باہمی مشاورت اور علمائے کرام و نمازیوں کی مذہبی خودمختاری کا احترام ناگزیر ہے۔
بظاہر یہ اقدام ایک ایسے تجربے کی آزمائش معلوم ہوتا ہے جس نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں بجا طور پر تشویش پیدا کی ہے۔ معزز وزیرِ اعلیٰ عمرعبداللہ صاحب، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت، سول سوسائٹی اور مختلف مذہبی تنظیموں سمیت متعدد حلقوں نے اس اقدام کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بنیادی خدشہ یہ ہے کہ کہیں ایک انتظامی اقدام بتدریج مذہبی امور پر سیاسی اثر و رسوخ قائم کرنے کا ذریعہ نہ بن جائے، حتیٰ کہ خطباتِ جمعہ کے موضوعات اور مواد بھی سیاسی اثرات کے تابع ہو جائیں۔
میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اصل مسئلہ علمائے کرام کے باہمی مشورے یا مشترکہ سماجی مسائل پر گفتگو کرنے کا نہیں ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایسے اقدامات کسی سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے ادارے کے ذریعے اس انداز میں مسلط کیے جانے چاہییں کہ مذہبی خودمختاری متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو؟ اس نوعیت کے تمام اقدامات رضاکارانہ، شفاف اور علمائے کرام کے ساتھ ساتھ متعلقہ برادری کے وسیع تر مشورے سے کیے جانے چاہییں۔
ہندوستان کا آئین آزادیِ ضمیر اور مذہب کو آزادانہ طور پر ماننے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کے حق کی ضمانت دیتا ہے، البتہ یہ حقوق آئینی حدود و ضوابط کے تابع ہیں۔ کوئی بھی ایسا اقدام جس سے مذہبی عمل میں سیاسی مداخلت کا تاثر پیدا ہو، عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور اداروں و عوام کے درمیان بداعتمادی کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔
جموں و کشمیر جیسے خطے میں یہ معاملہ مزید حساس ہو جاتا ہے، جہاں عوامی اعتماد، مذہبی حساسیت اور اداروں کی ساکھ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ عوام کے ایمان اور عقیدے سے متعلق معاملات میں کسی بھی قسم کے تجربات، مناسب مشاورت، حساسیت اور آئینی اصولوں کے احترام کے بغیر نہیں کیے جانے چاہییں۔
لہٰذا، ہماری امید ہے کہ مستقبل میں اس نوعیت کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے گا۔ ہم حکومتِ ہند سے مؤدبانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت اور متعلقہ حکام کو اس بات کا پابند بنائے کہ وہ ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جنہیں کسی بھی مذہبی برادری کے داخلی مذہبی امور میں مداخلت تصور کیا جا سکتا ہو۔
ایمان و عقیدہ انسان کے ضمیر کا معاملہ ہے، دینی رہنمائی سیاسی دباؤ سے آزاد رہنی چاہیے، اور عوامی اداروں کا فرض آئینی آزادیوں کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ انہیں سیاسی اثر و رسوخ کے تابع بنانا۔
ہماری اپیل محض احتیاط، باہمی احترام اور مذہبی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہے، تاکہ کوئی انتظامی یا سیاسی فیصلہ حکومت اور عوام کے درمیان غیر ضروری بداعتمادی کا سبب نہ بنے۔