سفر نامہ
سفرِ محمود... (قسط نمبر 29)

✍️ :. عبدالرشید سرشار رات کے دو بج چکے ہیں۔ آج گیارہ ذوالحجہ اور جمعرات کا دن ہے۔ منیٰ کے مکتب نمبر 22 کے خیمے میں ہماری آنکھ اچانک کھل گئی۔ یوں محسوس ہوا جیسے ابھی چند لمحے پہلے ہی لیٹے تھے کہ بیداری کا وقت آ پہنچا۔ خیمے میں چہل پہل ہے کچھ حجاجِ کرام ہم سے بھی پہلے جاگ چکے ہیں۔ میں نے اٹھ کر وضو کیا۔ غلام محی الدین کا معمول تھا کہ وہ تہجد کی نماز کے لیے ہمیشہ ہم سب سے پہلے بیدار ہوتے تھے، عبدالسلام مستورات کے خیمے کی خبر لینے نکل پڑے۔ ایک نئی افتاد یہ پڑی کہ ہماری وہیل چیئر غائب تھی! نہ معلوم کس نے اٹھا لی۔ جس نے بھی لی ہوگی، یقیناً حجاج میں سے ہی کوئی بندۂ خدا ہوگا، کاش کہ وہ پوچھ کر لے لیتا۔ اس رات کو ہمیں اس کی کوئی خاص ضرورت نہ تھی، مگر چونکہ وہ میں نے خریدی تھی اور میری ملکیت تھی، اس لیے ذہن سوچوں کے بھنور میں گم ہو گیا۔ اسی لمحے تاریخِ اسلام کا ایک واقعہ میرے ذہن کے پردے پر ابھر آیا: کہا جاتا ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سفر میں تشریف لے جا رہے تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا۔ آپ گھوڑے پر سوار تھے اور آس پاس کوئی آبادی نہ تھی۔ نماز ادا کرنے کے لیے آپ نیچے اترے تو پاس ہی ایک شخص کو کھڑا دیکھا۔ آپ نے اس سے گزارش کی، ”جب تک میں نماز پڑھتا ہوں، تم ذرا میرے گھوڑے کی نگہبانی کرنا۔“ آپ پوری یکسوئی اور اطمینان سے بارگاہِ الٰہی میں سر بسجود ہو گئے۔ جب سلام پھیرا اور فارغ ہو کر اٹھے، تو نہ وہ شخص وہاں تھا اور نہ گھوڑے کی لگام۔ حضرت علیؓ کے دل میں پہلا خیال یہی گزرا کہ شاید کسی درندے نے اس شخص پر حملہ کر دیا ہے اور وہ لگام سمیت کسی حادثے کا شکار ہو گیا۔ آپ گھوڑے کو ساتھ لیے قریب کی ایک بستی میں پہنچے تاکہ کسی تاجر سے لگام خرید سکیں۔ دکاندار نے عرض کیا: ”حضرت! ہم لگامیں تو نہیں بیچتے، مگر ابھی ابھی ایک شخص مجھے یہ لگام اونے پونے بیچ کر گیا ہے، آپ اتنی رقم عنایت فرمائیں اور یہ لے لیں۔“ جب آپ نے نگاہ ڈالی تو سخت افسوس ہوا، یہ وہی لگام تھی! آپ نے آبدیدہ ہو کر فرمایا: ”افسوس! میں نے دل میں جتنے معاوضے کی نیت اس کی خدمت کے عوض رکھی تھی، اس نے اتنی ہی رقم کمائی، مگر حرام راستے سے۔ اگر وہ سلام پھیرنے تک صبر کر لیتا تو یہی رزق اس کے مقدر میں حلال بن کر آتا، مگر اس نے خیانت کر کے حلال کو حرام میں بدل ڈالا۔“ مجھے بھی دل ہی دل میں شدید افسوس ہوا۔ یہ وہیل چیئر ڈیڑھ سو ریال میں میں نے بھارتی ہیلتھ مشن کے عملے سے خریدی تھی۔ کاش وہ شخص چوری کرنے کے بجائے مجھ سے مستعار مانگ لیتا، میں بخوشی دے دیتا۔ ہم مکتب سے باہر نکل آئے۔ سامنے شارع شاہ فہد (نمبر 68) اور کبریٰ نمبر 25 کنگ عبدالعزیز فخر سے سر اٹھائے کھڑا تھا۔ عبدالسلام نے پوچھا: ”ماسٹر جی! کہاں چلنا ہے؟“ ”حاجی صاحب! ہمیں طوافِ زیارت کے لیے نکلنا ہے،“ میں نے پرسکون لہجے میں جواب دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ جب سے ہم اس سفرِ محمود پر نکلے تھے، میرے کسی ساتھی نے کبھی یہ سوال نہ اٹھایا تھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں، کیوں جا رہے ہیں، یا کسی اور وقت چلتے۔ نہ ہی کسی فریضے کی ادائیگی کے بعد انہیں یہ احساس ہوتا تھا کہ خود بھی کوئی پیشگی تیاری کرنی چاہیے تھی۔ رہنمائی کی تمام تر ذمہ داری مجھ ناچیز پر تھی۔ ہم نے ابھی کبریٰ عبدالعزیز کو پار نہیں کیا تھا، مگر پاؤں ازخود شارع شاہ فہد پر بڑھ رہے تھے۔ غلام محی الدین نے تذبذب کے عالم میں پوچھا: ”ہمیں پیدل جانا ہوگا یا گاڑی میں؟“ اب میں بھی حساب لگانے لگا۔ اس سڑک سے مسجدِ حرام کا فاصلہ تقریباً دس کلومیٹر بنتا ہے۔ اگر جمرات کے قریب حرم والی بس مل جائے، تب بھی وادیِ عقبہ تک کم از کم پانچ کلومیٹر پیدل چلنا پڑے گا۔ اس میں ایک گھنٹہ صرف ہوگا، پھر بس کا انتظار اور سفر، یوں پندرہ بیس منٹ بعد جا کر کہیں حرم شریف پہنچیں گے۔ لیکن سب سے بڑی تشویش میری اہلیہ تھیں، ان کی طبیعت ناساز تھی، کیا وہ پانچ کلومیٹر کا طویل پیدل سفر جھیل پائیں گی؟ موسم غنیمت تھا، گرمی معتدل تھی اور ہم تین ساڑھے تین گھنٹے کی نیند لے کر تازہ دم ہو چکے تھے۔ احرام کی پابندیوں سے بھی بڑی حد تک فراغت مل چکی تھی۔ سڑک پر روشنیوں کا ایسا سیلاب تھا گویا دن چڑھا ہو۔ اکا دکا حجاج سڑک پر رواں دواں تھے۔ آج زوال کے بعد تینوں جمرات کی رمی بھی درپیش تھی۔ اچانک میرے ذہن میں ایک تدبیر آئی: کیوں نہ پل پر چڑھ کر دیکھا جائے، شاید کوئی سواری ہاتھ آ جائے؟ میں نے عبدالسلام سے مشورہ مانگا: چچا! ہم ایسا کرتے ہیں کہ کبریٰ پر چڑھتے ہیں، شاید گاڑی مل جائے۔ اس نے بے ساختہ پوچھا: کیا آپ کو کبریٰ کا راستہ معلوم ہے؟ میں نے مسکرا کر کہا: چچا! مجھے اپنے ہاتھ کی لکیروں کی طرح منیٰ کے سارے راستے ازبر ہیں۔ اس کے چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی، تعریفی کلمات کہتے ہوئے بولا: ماشاءاللہ! آپ ہمارے قائد ہیں۔ اور وہ فوراً میرے پیچھے چل پڑا۔ کبریٰ پر چڑھنے کے لیے میں نے ایک مختصر سا شارٹ کٹ لیا اور ربِ کریم نے ہمارے لیے راہیں آسان فرما دیں۔ پل پر پہنچتے ہی آواز گونجی: حرم! حرم! حرم! کنڈکٹر شاید پاکستانی تھا، اردو میں بلند آواز سے صدائیں لگا رہا تھا۔ پل کے کنارے موجود تقریباً سارے مسافر بھارتی حجاج ہی تھے۔ عبدالسلام نے لپک کر پوچھا: بیٹا! حرم تک کتنا کرایہ ہے؟ صرف بیس ریال فی حاجی! کنڈکٹر بولا۔ عبدالسلام نے میری طرف مڑ کر رائے لی: ماسٹر جی! کیا کریں؟ ہماری کرنسی میں یہ لگ بھگ پانچ سو روپے کی رقم بنتی ہے، آپ کا کیا مشورہ ہے؟ میں نے کہا: سمجھو بالکل مفت ہے! بسم اللہ کر کے سوار ہو جائیے، بیس ریال کوئی بڑی رقم نہیں ہے۔ اس اسٹاپ سے ہمارے سمیت کوئی تیس کے قریب حجاج سوار ہوئے۔ تھوڑا آگے چل کر گاڑی رکی تو دس حجاج اور چڑھا لیے گئے۔ اب کنڈکٹر کرایہ وصول کرنے کے لیے آیا تو اس کے تیور بدل چکے تھے: تیس ریال فی حاجی! عبدالسلام کو غصہ آیا اور اس نے فوراً اعتراض کیا: بھائی! میں نے تم سے بیس ریال طے کیے تھے! مگر کنڈکٹر ڈھیٹ بن کر تیس پر ہی اڑ گیا۔ عبدالسلام نے بے بسی سے مجھ سے کہا: ماسٹر جی! اب کیا کریں؟ یہ تو کھلی بددیانتی ہے! کنڈکٹر ڈنڈی مار رہا ہے، اس نے ریٹ بڑھا دیا ہے، آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے وقت کی نزاکت اور مصلحت کو بھانپتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا: کوئی مسئلہ نہیں، یہ بھی مفت ہی سمجھئے، تیس کے تیس ریال دے دیں گے۔ ہماری کرنسی کے حساب سے تیس ریال کے معنی 780 روپے بنتے تھے، جبکہ طے شدہ بیس ریال کی رقم 520 روپے تھی۔ ہم نے اس لمحے کنڈکٹر کی بے ایمانی کا تلخ گھونٹ خاموشی سے پی لیا۔ باہر انوار و تجلیات کی بارش تھی۔ بس کس رستے سے جا رہی تھی، اس کا صحیح اندازہ نہ ہو سکا، البتہ دور سے مکہ کلاک ٹاور اپنی پوری رعنائی کے ساتھ افق پر جگمگاتا نظر آ رہا تھا۔ اسی اثنا میں فضا حرم پاک کی مسحور کن اذان سے گونج اٹھی۔ ہم نے خشوع کے ساتھ مؤذن کے کلمات کا جواب دیا۔ گاڑی حرم سے ذرا پیچھے رک گئی۔ ہم نیچے اترے اور کسی نامعلوم دروازے کی سمت سے مسجدِ حرام کی حدود میں داخل ہونے لگے۔ زندگی میں پہلی بار فجر کی نماز حرم میں یوں سڑک پر باجماعت ادا کرنے کا شرف حاصل ہوا، اور فرض کی ادائیگی کے فوراً بعد ہم نے دوگانہ سنت ادا کی۔ صبح کے ساڑھے چار بجے کا وقت تھا۔ ہم ابراہیم خلیل روڈ سے گزرتے ہوئے آگے بڑھے۔ معمول کے لباس زیب تن تھے۔ عام دنوں میں مطاف کا دائرہ صرف احرام پوش حجاج کے لیے ہی مخصوص رہتا ہے، مگر آج عید کے دوسرے روز، یعنی گیارہ ذالحجہ کو، حرم کی انتظامیہ نے طوافِ زیارت کی خاطر عام لباس میں داخلے کی خصوصی رعایت دے رکھی تھی اور یہ رعایت اگلے دو ہفتوں تک برقرار رہنے والی تھی۔ مطاف میں رش نہ ہونے کے برابر تھا۔ حجاج کی بھاری اکثریت تاحال منیٰ کے خیموں میں مقیم تھی۔ کچھ پیدل آ رہے تھے، کچھ دن چڑھے پہنچنے والے تھے، جبکہ بہت سے حجاج بارہ اور تیرہ ذوالحجہ کو اس رکنِ اعظم کی ادائیگی کا ارادہ رکھتے تھے۔ عموماً برصغیر اور بالخصوص ہمارے بھارت سے حج کے لیے بڑی عمر کے بزرگ ہی تشریف لاتے ہیں۔ بیت اللہ کے صحن میں شاید پہلی بار اتنی کم بھیڑ دیکھنے کو مل رہی تھی۔ ابھی ہم صحنِ حرم کے دہانے پر ہی تھے کہ اچانک میری اہلیہ ہمت ہار کر زمین پر بیٹھ گئیں۔ وہ میرے پیچھے پیچھے چل رہی تھیں اور میں اس چھوٹے سے قافلے کی سالاری کرتا ہوا آگے تھا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ تھکن سے چور چور تھیں۔ حالانکہ ہم گاڑی میں آئے تھے، مگر جسم جواب دے رہا تھا۔ میں نے بے چین ہو کر پوچھا: کیا ہوا؟ کیا آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے؟ انہوں نے بے بسی سے التجائیہ انداز میں کہا: کسی وہیل چیئر کا انتظام کرو، مجھ سے اب ایک قدم بھی نہیں چلا جاتا۔ یہ سنتے ہی ہمارے ساتھ آئے تمام حجاج کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور وہ سخت پریشان ہو گئے، مگر میں نے اضطراب کو اپنے پاس پھٹکنے تک نہ دیا۔ حیرت انگیز طور پر میرے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔ اس مسکراہٹ کا تعلق اہلیہ کی بیماری یا غم کو چھپانے کے تکلف سے ہرگز نہ تھا، بلکہ مجھے اس نازک گھڑی میں معروف صوفی بزرگ اور بیوروکریٹ قدرت اللہ شہاب مرحوم و مغفور کا ایک واقعہ یاد آ گیا تھا: شہاب صاحب ہالینڈ میں ایک تربیتی کورس مکمل کرنے گئے تھے۔ اگست کا مہینہ تھا اور چھ ماہ کی تکمیل کے بعد واپسی کے سفر میں ان کے دل میں تمنا جاگی کہ حجازِ مقدس ہوتے ہوئے وطن لوٹا جائے کیونکہ عیدِ قرباں اور حج کے ایام سر پر تھے۔ چنانچہ وہ مصر کے راستے جدہ اور پھر مکہ معظمہ پہنچ گئے۔ مگر جوں ہی انہوں نے طواف کا ارادہ باندھا، تو نہ جانے کیا باطنی رکاوٹ حائل ہوئی کہ ان کے پاؤں جیسے کسی نادیدہ، وزنی زنجیر میں جکڑ کر رہ گئے۔ پھر بہاولپور کی ایک معمر خاتون سامنے آئیں، انہوں نے سخت سست سناتے ہوئے ان کا ہاتھ پکڑا اور طواف کے دو چار چکر لگوائے، تب جا کر وہ غیبی زنجیر کھل گئی اور قدموں نے آزادی پائی۔ میرے دل میں فخر اور عقیدت کی ایک لہر دوڑ گئی۔ میرے دادا مرحوم اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے جن کے بارے میں میرے والد محترم فرمایا کرتے تھے کہ وہ باکمال اور پہنچے ہوئے اللہ والے بزرگ تھے۔ یہاں اللہ والے بزرگ سے مراد یہ نہ لی جائے کہ وہ تبلیغی جماعت والے تھے جنہیں عام زبان میں ’اللہ والے‘ پکارا جاتا ہے، دادا محترم تو 1971ء میں ہی خالقِ حقیقی سے جا ملے تھے، والد صاحب بتاتے تھے کہ وہ تصوف و سلوک کے کہنہ مشق راہی تھے۔ شریعت اور معرفت ان کے رگ و پے میں بسی تھی، خانقاہوں اور مساجد کے طواف میں فنا فی اللہ کی کیفیت لیے رہتے۔ دوسری جانب میرے نانا جن کا اسمِ گرامی محمد اکبر تھا اور جو خلقِ خدا میں ’اکبر درویش‘ کے نام سے معروف تھے، ان کا تقویٰ اس درجے پر تھا کہ جانوروں کے لیے جمع کردہ گھاس پھونس تک کی زکوٰۃ نکالا کرتے تھے! انہوں نے اپنی بیٹیوں کو عقائد، قرآن، فقہ اور فارسی کی مستند کتابیں پڑھائی تھیں۔ تو کیا اس وقت میری اہلیہ کے قدموں کا یوں منجمد ہو جانا بھی کسی خاندانی بزرگی یا روحانی بارگاہ کا مظہر تھا؟ بس اسی خیال کے آتے ہی میں دل ہی دل میں ہنس پڑا۔ حالانکہ زمینی حقیقت یہی تھی کہ میری اہلیہ عرق النساء کے شدید درد میں مبتلا تھیں اور اوپر سے ذیابیطس کا عارضہ لاحق تھا، اس لیے وہ ہمت ہار کر حرم کے دروازے پر بیٹھ گئی تھیں۔ قریب سے ہی وہیل چیئر کا ایک خادم گزرا۔ میں نے اشارہ کر کے اسے پاس بلایا اور دریافت کیا: بھائی! کیا وہیل چیئر مل سکتی ہے؟ اس نے خندہ پیشانی سے سینے پر ہاتھ رکھ کر جواب دیا: کیوں نہیں جناب! ہم تو آپ ہی کی خدمت کے لیے مامور ہیں، فرمائیے، کیا حکم ہے؟ اس کا معاوضہ کتنا ہوگا؟ میں نے پوچھا۔ حضور! صرف ساڑھے تین سو ریال! صرف ساڑھے تین سو ریال؟ ہماری ملکی کرنسی میں یہ رقم لگ بھگ نو ہزار روپے بنتی تھی۔ میں نے اپنے ذہن میں ریاضی دان آریہ بھٹ کی طرح فوری جمع تفریق کی اور پوچھا: اچھا، یہ تو بتاؤ کہ وہیل چیئر کو دھکا کون لگائے گا؟ خادم نے جھک کر کہا: حضور! ماشاءاللہ آپ تندرست اور جوان ہیں، یہ آپ کی اہلیہ ہیں اور ان کی خدمت آپ پر فرض ہے۔ ادھر سے تشریف لائے ہیں، لازماً آپ ہی اسے چلائیں گے۔ میں نے اگلا سوال داغا: اور یہ چیئر ہماری ملکیت ہو جائے گی یا کام کے بعد واپس کرنی ہوگی؟ خادم نے وضاحت کی: حضور! ہم یہ کرائے پر دیتے ہیں۔ دو گھنٹے کے لیے آپ کے پاس رہے گی، آپ فریضہ ادا کیجیے اور واپس لوٹا دیجیے۔ کرایہ بھی کتنا ہے، صرف ساڑھے تین سو ریال! مجھے اپنی گم شدہ وہیل چیئر پر بے ساختہ پیار آ گیا۔ وہ معصوم سواری جو کل اٹھارہ کلومیٹر تک ہمارا بوجھ اٹھائے دن بھر وفا شعاری سے خدمت کرتی رہی، نہ معلوم کس بندۂ خدا نے عین عید کے دن اسے ہم سے اچک لیا تھا۔ یوں سمجھیے کہ اس مبارک دن ہم نے دو قربانیاں دی تھیں ایک جانور کی اور دوسری اس وہیل چیئر کی! کتنی سستی خریدی تھی ہم نے، کل ڈیڑھ سو ریال میں تمام تر مالکانہ حقوق کے ساتھ، اور آج ویسے ہی دو گھنٹوں کی عارضی رفاقت کے لیے ساڑھے تین سو ریال طلب کیے جا رہے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ دونوں میں ایک عجیب مماثلت تھی ، ایک امانت سمجھ کر واپس کرنی تھی اور دوسری کو ہمیں بادلِ نخواستہ بھلانا پڑا۔ میں نے محبت اور یقین بھرے لہجے میں اہلیہ کی طرف رخ کیا اور کہا: محترمہ! اپ ہمت کیجیے اور کھڑی ہو جائیے۔ یہ وہی مقدس خطہ ہے جہاں ربِ ذوالجلال نے ہماری بڑی اماں حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی فریاد قبول فرمائی تھی۔ اسی عظیم ماں کی اس چھوٹی بیٹی کی ایک حقیر سی حاجت ہے کہ ٹانگوں کا درد دور جائے وہ رب آپ کی التجا بھی ضرور سنے گا، مگر شرط یہ ہے کہ: اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے ان الفاظ نے معجزاتی اثر دکھایا۔ ان کے چہرے پر عزم کی روشنی پھیلی اور وہ خاموشی سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ہم نے سیاہ کسوہ میں لپٹے کعبۃ اللہ کی دلنواز زیارت کی۔ حجرِ اسود کے پاس عقیدت مند شہد کی مکھیوں کی طرح چھتے سے لپٹے ہوئے تھے دکھائی دے رہے تھے۔ ہم حجرِ اسود کی سیدھ میں ادب سے کھڑے ہوئے، دور سے استلام کیا۔ چونکہ ہم احرام میں نہیں تھے اس لیے اضطباع تو نہ تھا، البتہ ابتدائی چکروں میں رمل کی سنت ادا کی۔ مقامِ ابراہیم کے گرد بھی پروانوں کا خاصا ہجوم تھا۔ محض بیس منٹ کے قلیل وقت میں ہمارا طواف مکمل ہو گیا۔ زمزم کی ٹونٹیوں کے قریب ہی ہم نے شکرانے کی دو رکعتیں ادا کیں، جی بھر کر ٹھنڈا زمزم نوش کیا اور تھوڑی دیر سستانے بیٹھے۔ سامان میں کچھ بسکٹ رکھے تھے، ان سے تھوڑی بھوک مٹائی اور پھر سعی کے لیے کمربستہ ہو گئے۔ حرم میں اب طواف کرنے والوں کی آمد تیز ہو رہی تھی۔ قافلے کے ساتھیوں نے اشارہ کرتے ہوئے یاد دلایا: ماسٹر جی! صفا و مروہ کا راستہ یہاں سے ہے۔ میں نے رہنمائی کرتے ہوئے کہا: آپ درست فرما رہے ہیں، مگر میں آپ کو سعی کی دوسری منزل پر لے جا رہا ہوں تاکہ بھیڑ بھاڑ سے بچ سکیں۔ میرا اندازہ بالکل صحیح نکلا، بالائی منزل پر دو سو سے بھی کم حجاج سعی کا فریضہ ادا کر رہے تھے۔ میں نے مسکراتے ہوئے اہلیہ سے شوخی کے انداز میں کہا: اے بنتِ ہاجرہ! تجھے ہر طرف سے مکمل آزادی ہے، اپنی مرضی اور رفتار سے سعی کر، تو اب کہیں نہیں کھو سکتی۔ وہ اپنے دھیمے انداز سے مسکرا کر قدم بڑھانے لگی۔ عبدالسلام نے جھک کر میرے کان میں سرگوشی کی: ماسٹر جی! اللہ نے تسلیمہ کی دعائیں قبول فرما لی ہیں، وہ دیکھیے، وہ تو اب ہم سے بھی آگے چل رہی ہیں! میں نے خاموشی اختیار کی کہ کہیں ہماری ہی محبت نظر نہ لگ جائے۔ وہ نہایت سکون اور یکسوئی سے چل رہی تھیں کمر پر حفاظتی بیلٹ باندھ رکھی تھی جس نے شاید ریڑھ کی ہڈی اور ٹانگوں کو سہارا دے رکھا تھا۔ ہم بھی باوقار چال سے چلے جا رہے تھے، بس میلین اخضرین کی سبز روشنیوں کے درمیان سنتِ ابراہیمی کی پیروی میں ہلکی سی دوڑ لگا لیتے۔ صفا سے آغاز کیا اور مروہ تک پہنچے۔ نہ کہیں کوئی کٹھن چڑھائی تھی نہ پتھریلی اترائی، بلکہ سنگِ مرمر کا ایک طویل، کشادہ اور صاف ستھرا راستہ تھا۔ ایک چکر چار سو میٹر کا اور سات پھیرے مل کر تقریباً تین کلومیٹر کا فاصلہ بنتے تھے۔ دیو ہیکل ایئر کنڈیشنرز کی مسلسل ٹھنڈک سے جسم میں کپکپی دوڑنے لگی۔ سنگِ مرمر کے اس ہموار فرش پر چلتے ہوئے میرا تخیل چار ہزار سال قدیم تاریخ کے دریچوں میں جا اترا: ایک پیاسی اور بے بس ماں ، جس کے ماتھے پر نہ اپنے گھر بار چھن جانے کا ملال ہے اور نہ سہولیات کی محرومی کا شکوہ، بلکہ ممتا کی گود میں سسکتے ہوئے ننھے شیر خوار اسماعیل علیہ السلام کی پیاس نے اس کے صبر کے تمام بندھن توڑ ڈالے ہیں۔ وہ پانی کی ایک بوند کی تلاش میں ان سنگلاخ، تپتی ہوئی دو پہاڑیوں پر دیوانہ وار چکر کاٹ رہی ہے۔ کبھی صفا، کبھی مروہ، اور درمیانی نشیب میں یوں دوڑتی ہے کہ کہیں کوئی درندہ اس کے لختِ جگر کو نہ اٹھا لے جائے! عظیم ماں حضرت ہاجرہ کی اسی لازوال قربانی کی یاد میں آج ہم شیشے کی دیواروں کے پیچھے محفوظ صفا کی چند چٹانوں کے گرد چکر کاٹتے اور پھر کیمیکلز سے نشان زدہ مروہ کی علامت کا پھیرا لگا کر واپس پلٹتے ہیں۔ صبح کے ساڑھے چھ بج رہے تھے۔ ہم مروہ کے دروازے سے باہر نکلے۔ اللہ کے فضل و کرم سے حج کا آخری اور تیسرا رکنِ اعظم (طوافِ زیارت مع سعی) بھی حسن و خوبی کے ساتھ پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا تھا۔ میں نے فوراً اپنی خوش دامن (ساس محترمہ) کو کال ملائی: السلام علیکم خالہ جان! وعلیکم السلام بیٹا! جیتے رہو، خوش رہو، کیا کر رہے ہو اس وقت؟ انہوں نے ممتا بھرے لہجے میں پوچھا۔ میں نے مسرت سے نہال ہو کر عرض کیا: خالہ جان! مبارک ہو، ہم نے طوافِ زیارت مکمل کر لیا ہے۔ طوافِ زیارت بہت بہت مبارک ہو بیٹے! میری بیٹی کیسی ہے؟ انہوں نے بے قراری سے پوچھا۔ الحمدللہ وہ بالکل خیریت سے ہے۔ ابھی میری بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ اہلیہ نے میرے ہاتھ سے فون چھین لیا اور خود اپنی والدہ سے گفتگو میں محو ہو گئیں۔ ہم قدم بہ قدم چلتے ہوئے مولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزر کر شعبِ ابی طالب کی گھاٹی تک پہنچ گئے۔ یہ وہی پرصعوبت مقام تھا جہاں میرے آقا سرورِ کونین ﷺ نے اپنے جاں نثاروں کے ہمراہ تین کٹھن ترین سال محصوری اور بائیکاٹ کے عالم میں گزارے تھے۔ میں نے ساتھیوں کو سرنگ کی طرف اشارہ کر کے بتایا: وہ دیکھو سامنے ٹنل ہے، اگر ہم پیدل آتے تو اسی راستے سے حرم پہنچتے۔ اب ہم غزہ بس اسٹینڈ کی سمت نکل آئے۔ طعام! طعام! طعام! ایک بڑے ٹرک کے اوپر کھڑا بنگالی بھائی عربی اور اردو کے ملے جلے لہجے میں کھانے کے پیکٹوں کی صدا لگا رہا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر پانچ پیکٹ لیے۔ ہر پیکٹ میں بسکٹ، جوس، دال، پانی کی بوتل اور ایک بریڈ موجود تھی۔ اگرچہ جسم میں ہلکی سی تھکن اتر آئی تھی، مگر دل طمانیت سے بلّیوں اچھل رہا تھا۔ ہم دوبارہ پلٹ کر مسجدِ حرام کی کشادہ بیرونی دیواروں کے ٹھنڈے سائے میں بیٹھ گئے اور اطمینان سے ناشتہ کیا۔ فون پر تاحال ساس اور بیٹی کی گفتگو جاری تھی۔ میری خوش دامن اس بات پر حیراں تھیں کہ اتنی آسانی سے ہمارا طوافِ افاضہ کیسے مکمل ہو گیا۔ دراصل انہوں نے سنہ 2017ء میں اگست کی جھلسا دینے والی شدید گرمی میں حج کا فریضہ ادا کیا تھا تب انہوں نے میدانِ عرفات، مسجدِ نمرہ اور جبلِ رحمت پر ناقابلِ بیان مشقتیں جھیلی تھیں، مزدلفہ میں شب بسری کی، صبح سویرے پیدل جمرات پہنچ کر دسویں ذوالحجہ کی رمی کی مکہ پہنچ کر طوافِ زیارت کیا۔ اس طرح افتاں و خیزاں واپس منیٰ لوٹی تھیں۔ جب میں نے انہیں فون پر بتایا کہ ہمارا یہ سارا سفر آرام دہ گاڑی میں طے ہوا ہے، تو ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اب ہمیں کوئی جلدی نہ تھی، گیارہ ذوالحجہ کی تینوں جمرات کی رمی زوال کے بعد ادا کرنی تھی اور ہمارے پاس پانچ چھ گھنٹے کا وافر وقت دستیاب تھا۔ ہم سب حرم کی پاکیزہ دیواروں کے سائے تلے بارگاہِ رب العزت میں حمد و ثنا اور شکر و سپاس کے نذرانے پیش کرتے رہے۔ مسجدِ حرام کی بیرونی فضا میں کوئی ہجوم نہ تھا، ہر سو ایک پرسکون خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ رش اگر تھا تو وہ منیٰ کی وادی، جمرات کے پلوں اور ان کو ملانے والی چھ کشادہ شاہراہوں پر تھا۔ دھوپ کی حدت دھیرے دھیرے بڑھنے لگی تو ہم نے سفری تھیلوں سے چھتریاں نکال لیں۔ ہم نے فرصت کے ان لمحات میں برکت سمیٹنے کے لیے مسجدِ شجرہ، مسجدِ فتح اور مسجدِ جن کی پرکیف زیارات کیں۔ ان تینوں مقدس مساجد کی زیارت کے بعد ہوا کے ایک تند و تیز جھونکے نے میری چھتری پر ایسا وار کیا کہ وہ کاغذ کے تنکوں کی طرح بکھر کر ریزہ ریزہ ہو گئی۔ اب ہمیں اپنے کپڑوں کو مہکانے کے لیے عطر کی ایک شیشی درکار تھی۔ دل چاہتا تھا کہ حرم کی ان فضاؤں میں عطر کی خوشبو میں بس جائیں۔ آگے بڑھے تو دیکھا کہ ایک بنگالی دکاندار کے ساتھ ہمارے ایک کشمیری حاجی صاحب تکرار میں الجھے ہوئے ہیں: یہ میٹھے دہی کی بوتل ہے، اس میں چینی پڑی ہے! میری بیوی کو شوگر کی بیماری ہے، یہ واپس پکڑو! کشمیری حاجی صاحب غصے میں لال پیلے ہو کر دکاندار کو کھری کھری سنا رہے تھے۔ بنگالی دکاندار اپنی صفائی پیش کر رہا تھا: حاجی صاحب! آپ نے ڈھکن کھول دیا ہے۔ یہ اسٹرابیری والا دہی ہے اگر آپ نے بوتل کھولے بغیر واپس کی ہوتی تو میں فوراً رکھ لیتا۔ اس پر صاف لکھا ہے کہ یہ اسٹرابیری دہی ہے اور اس میں شکر شامل ہے۔ کشمیری حاجی صاحب اپنی نرالی منطق پر اڑے ہوئے تھے: مجھے کیسے پتہ چلتا کہ اس میں چینی ہے جب تک میں ڈھکن نہ کھولتا اور اس کا ذائقہ نہ چکھتا؟ یہ حاجی صاحب محمد یوسف تھے۔ بنگالی دکاندار ماننے پر تیار نہ ہوا اور بولا: حاجی صاحب! بوتل کے اوپر اجزا کی تمام تر تفصیل لکھی ہوتی ہے۔ ان دونوں کی اس بے ساختہ بحث کو دیکھ کر میری ہنسی چھوٹ گئی۔ دل میں شکر ادا کیا کہ عبدالسلام اس وقت میرے ساتھ نہیں تھا، ورنہ وہ حاجی صاحب کا نہ جانے کیسا تماشا اور مذاق بناتا! حاجی یوسف نے جب مجھے دیکھا تو ان کی ہمت بندھ گئی اور وہ تیزی سے بولے: چلو بھائی! مجھے بغیر چینی والی سادی دہی کی بوتل دے دو، اور یہ کھلی ہوئی بوتل بھی تم ہی رکھ لو، مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے آگے بڑھ کر نرمی سے حاجی یوسف کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فہمائش کی کہ ایسی مقدس جگہ پر معمولی بات پر جھگڑنا مناسب نہیں۔ نہ معلوم ان پر میرے لہجے کا کیا اثر ہوا کہ انہوں نے غصہ تھوک دیا، سادی دہی کے پیسے ادا کیے اور وہ اسٹرابیری والی میٹھی دہی زبردستی میرے ہاتھ میں تھما دی۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا: حاجی صاحب! آپ کی اہلیہ کو شوگر کا عارضہ ہے، آپ تو ماشاءاللہ تندرست ہیں، یہ دہی آپ خود ہی پی لیجیے۔ مگر انہوں نے بصد اصرار وہ بوتل مجھے ہی تحفتاً پکڑا دی۔ ہم دکان سے باہر نکلے تو حاجی یوسف کی اہلیہ باہر پریشان کھڑی ان کا انتظار کر رہی تھیں۔ اس طرح ہمارے مختصر قافلے کی تعداد پانچ سے بڑھ کر سات ہو گئی کیونکہ دو اور ساتھی ہمارے ساتھ شامل ہو چکے تھے۔ حاجی یوسف کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں، وہ اپنے گروہ سے بچھڑ چکے تھے اور انہیں آگے کا کوئی راستہ معلوم نہ تھا۔ ہمارے ساتھی نے تسلی دیتے ہوئے کہا: حاجی صاحب! اب مطمئن رہیے، آپ کہیں نہیں گم ہوں گے یہ ہمارے ماسٹر جی ہیں، انہیں منیٰ اور جمرات کے چپے چپے کا علم ہے۔ حاجی یوسف نے بے چینی سے مجھ سے دریافت کیا: ماسٹر جی! کیا منیٰ کے لیے یہاں سے کوئی گاڑی مل جائے گی؟ میں نے مسکرا کر حقیقت واضح کی: حاجی صاحب! منیٰ کے نام پر گاڑی تو ضرور مل جائے گی، مگر وہ آپ کو منیٰ نہیں لے جائے گی۔ انہوں نے گھبرا کر پوچھا: پھر وہ کہاں لے جائے گی؟ آخر ہمیں وقت پر جا کر رمی بھی تو کرنی ہے! میں نے ہنستے ہوئے کہا: انشاءاللہ الرحمٰن! ہم سب اپنے مقررہ وقت پر آج کی رمی خوش اسلوبی سے ادا کریں گے۔ فی الحال تشویش چھوڑیے، آئیے باہر گھومتے ہیں۔ اور ہم سب مطمئن قدموں کے ساتھ مسجدِ جن کے دائیں بائیں بکھرے روح پرور مناظر کی وسعتوں میں کھو گئے۔ عبدالرشید سرشار حالسیڈار، ویریناگ (کشمیر) رابطہ: 7006146071